شنگ ہائی کا نیشنل ایگزبیشن اینڈ کنونشن سینٹر عالمی مہارت کا مرکز بن گیا۔ ورلڈ اسکلز کی افتتاحی تقریب محض ایک رسمی پروگرام نہیں تھا، بلکہ یہ "کوبوٹکس" (Cobotics) یعنی تعاون کرنے والے روبوٹس کی صلاحیتوں کا مظاہرہ تھا۔ یہاں مشینیں صرف اوزار نہیں تھیں، بلکہ رقص کے ساتھی کے طور پر سامنے آئیں۔
پس منظر: روبوٹک نقل و حرکت کا ارتقاء
دہائیوں تک صنعتی روبوٹس صرف مخصوص ماحول میں ایک ہی کام کو بار بار دہرانے تک محدود تھے۔ تاہم، خود مختار انسانی روبوٹس (Humanoid Robots) کی آمد نے توازن اور جگہ کی شناخت میں بڑی تبدیلیاں لائی ہیں۔ رقص کرنا اور روشنی کے ماڈیولز جیسے نازک اشیاء کا تبادلہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اب روبوٹس کی موٹر کنٹرول اور ہم آہنگی انسانی سطح کے قریب پہنچ رہی ہے۔
خود مختار ہم آہنگی: شو کی روح
جیسا کہ چائنا نیوز سروس کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے، یہ شاندار شو ایک جدید خود مختار کنٹرول سسٹم کے ذریعے ممکن ہوا۔ انسانی روبوٹس نے نہ صرف پہلے سے طے شدہ راستوں پر چل کر دکھایا، بلکہ انہوں نے انسانی فنکاروں کے ساتھ اس قدر روانی سے etk-interact کیا کہ مشینوں والی سختی بالکل محسوس نہیں ہوئی۔ یہ صلاحیت مستقبل میں صحت کی دیکھ بھال اور ذاتی مدد کے شعبوں میں انقلاب لا سکتی ہے۔
68
ممالک1,385
شرکاء64
زمرے (Categories)مقابلے کے اثرات اور اہمیت
یہ عالمی مقابلہ، جو 27 ستمبر تک جاری رہے گا، تکنیکی مہارتوں میں بہترین کو نوازنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں روبوٹس کی شمولیت ایک واضح پیغام دیتی ہے: مستقبل کی مہارتیں صرف کسی اوزار کو چلانے تک محدود نہیں ہوں گی، بلکہ انسانوں کی یہ صلاحیت اہم ہوگی کہ وہ ذہین اور خود مختار نظاموں کے ساتھ مل کر کیسے کام کرتے ہیں۔
حوالہ: La Stampa
مستقبل کی جھلک
یہ ہم آہنگی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ جلد ہی انسانی روبوٹس ہماری ہاسپیٹالٹی اور تفریحی خدمات کا حصہ بن جائیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شنگ ہائی میں استعمال ہونے والی یہ ٹیکنالوجی طبی شعبوں میں استعمال کی جائے جہاں اشیاء کا نہایت احتیاط سے تبادلہ ضروری ہوتا ہے۔ شاید مستقبل کے ورلڈ اسکلز مقابلوں میں انسان اور روبوٹ کی مشترکہ ٹیمیں نظر آئیں، جو "تکنیکی مہارت" کی تعریف ہی بدل دیں گی۔