01/07/2026 07:27 - Salud
ارجنٹینا کے شہر توکومن کے ایک ماہرِ امراض تنفس ڈاکٹر کارلوس صباغ نے مقامی میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ سردیوں میں انفیکشن کیوں پھیلتے ہیں اور کون سا آسان اقدام آپ کو بچا سکتا ہے۔
جنوری 2026 کے دوسرے ہفتے تک پورے ملک میں سردی کا موسم اپنے عروج پر ہے اور ڈاکٹرز کے کلینک میں نزلے، زکام اور سانس کی دیگر بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر صباغ نے واضح کیا کہ جب درجہ حرارت کم ہوتا ہے تو جسم اپنے اہم اعضاء (دل، پھیپھڑے، دماغ) کی حفاظت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس عمل کو طبی زبان میں واسوکانسٹرکشن کہتے ہیں۔
جب سردی ہوتی ہے تو ہماری ناک، ہاتھ اور پیر ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ جسم خون کے بہاؤ کو پیٹ اور سینے کی طرف موا دیتا ہے تاکہ اہم اعضاء محفوظ رہیں۔
اس ردعمل کی وجہ سے ناک میں خون کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے، جس کا مطلب سفید خون کے خلیات کی کمی۔ یہ خلیات انفیکشن سے لڑتے ہیں، جب یہ کم ہوں تو وائرس آسانی سے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔
مدافعتی نظام کی کمزوری کے ساتھ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ وائرس سردی میں زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں۔
ڈاکٹر نے مثال دی: سردی میں وائرس کی بیرونی پرت جیل کی طرح سخت ہو جاتی ہے، جس سے وہ لمبے عرصے تک زندہ رہتے ہیں۔ گرمی میں یہ پرت پگھل جاتی ہے اور وائرس کمزور ہو جاتا ہے۔ وہ ناک کا درجہ حرارت 33 ڈگری بتاتے ہیں جو وائرس کی افزائش کے لیے موزوں ہے۔
ڈاکٹر صباغ نے ایک آسان لیکن مؤثر طریقہ بتایا: سرد دنوں میں ناک کو ڈھانپ کر رکھیں۔ آپ اسکارف، دوپٹہ یا ماسک استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ناک کو گرم رکھتا ہے اور وائرس کے داخلے میں رکاوٹ بنتی ہے۔
واسوکانسٹرکشن خون کی نالیوں کا سکڑنا ہے۔ جب جسم کو سردی لگتی ہے تو یہ قدرتی عمل شروع ہو جاتا ہے۔ خون کا بہاؤ ہاتھوں، پیروں اور ناک سے کم ہو کر پیٹ اور سینے کی طرف چلا جاتا ہے۔
اس کا فائدہ یہ ہے کہ اہم اعضاء محفوظ رہتے ہیں، لیکن نقصان یہ ہے کہ ناک میں سفید خون کے خلیات کم پہنچتے ہیں، جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
Source: Que Pasa Salta / Contexto Tucumán (Argentina)
Alfredo S. Quiroga