03/07/2026 22:29 - Actualidad
سائنس ہمیشہ ہمارے سیارے کے بارے میں دلچسپ جوابات فراہم کرتی ہے، اور حال ہی میں جولائی 2026 میں، محققین کی ایک ٹیم نے تاریخ کے سب سے بڑے موسمیاتی معمات میں سے ایک کو حل کر لیا: انٹارکٹیکا آرکٹک سے لاکھوں سال پہلے کیوں جم گئی۔
جیسا کہ Infobae، Clarín اور El Confidencial جیسے مختلف ذرائع نے اطلاع دی، یہ مطالعہ اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ زمین کی اندرونی حرکیات نے عالمی موسم کو کس طرح متاثر کیا۔
مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ قطبین کے جم جانے کے وقت میں اس فرق کی وجہ صرف فضاء میں نہیں، بلکہ ہمارے قدموں کے نیچے ہے۔ سائنسدانوں کو زمین کے اندرونی حصے سے آنے والی 'لہروں' کے شواہد ملے۔ ارضیاتی لحاظ سے، اس سے مراد زمین کے غلاف (mantle) کے کنویکشن کرنٹ اور ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکات ہیں۔
ان گہری حرکتوں کی وجہ سے انٹارکٹیکا حرارتی طور پر الگ تھلگ ہو گئی۔ جنوبی امریکہ اور آسٹریلیا سے الگ ہونے سے ڈریک کا گزرگاہ (Drake Passage) کھل گیا، جس سے انٹارکٹک سرکمپولر کرنٹ (Antarctic Circumpolar Current) بننے کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ ایک دیوہیکل سمندری کرنٹ انٹارکٹیکا کے گرد مشرق کی طرف بہتا ہے، جو استوائی گرم پانیوں کو قطب جنوبی تک پہنچنے سے روکتا ہے۔ نتیجتاً، ایوسین-الیگوسین (Eocene-Oligocene) کے دوران تقریباً 34 ملین سال پہلے یہ براعظم ایک بڑی برفانی چادر بن گیا۔
دوسری طرف، آرکٹک، چونکہ وہ ان براعظمی بڑوں سے گھرا ہوا تھا جو گرم کرنٹوں کو داخل ہونے دیتے تھے اور شمالی نصف کرہ کے مداری تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوتا تھا، اس لیے جمنے میں کافی زیادہ وقت لگا۔ اس کی مستقل برفانی تہہ کی تشکیل کا تخمینہ صرف 3 سے 5 ملین سال پہلے کا ہے۔
El Confidencial نے ایک دلچسپ اور پرجوش حقیقت ظاہر کی کہ انہی ٹیکٹونک عملوں نے 'ہیرے کے آتش فشاں' (diamond volcanoes) کی تخلیق میں بھی کردار ادا کیا۔ یہ کمبرلائٹ چٹانوں (kimberlite rocks) کے پھٹنے کے عمل کی طرف اشارہ ہے، جو زمین پر ہیروں کے اہم قدرتی ذرائع ہیں اور انتہائی گہرائی میں بنتے ہیں۔
ماضی کے ان عملوں کو سمجھنا مستقبل کا اندازہ لگانے کے لیے ضروری ہے۔ یہ مطالعہ نہ صرف ایک تاریخی سوال کا جواب دیتا ہے بلکہ موسمیات دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ سمندری کرنٹوں اور ٹیکٹونک تبدیلیوں کا عالمی درجہ حرارت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ آج، گلوبل وارمنگ دونوں قطبین کی برف کے لیے خطرہ ہے، لیکن ان کے بننے کا طریقہ جاننا ہمیں ان کی نزاکت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ دریافت ثابت کرتی ہے کہ زمین ایک حیرت انگیز طور پر جڑواں نظام ہے، جہاں زمین کے غلاف کی گہری حرکت یہ طے کر سکتی ہے کہ کوئی براعظم استوائی جنت بنے گا یا برف کا صحرا۔ ہمارے سیارے کو سمجھنے میں یہ ایک بہت بڑا قدم ہے!
Alfredo S. Quiroga