03/07/2026 22:35 - Tecnologia
ارجنٹائن کی کونسیٹ (CONICET - قومی سائنسی اور تکنیکی تحقیقات کونسل) کے ماہر حیاتیات فبریسیو بیلارینی نے منی سوٹا یونیورسٹی کے اس شاندار پیشرفت کی تفصیل بتائی ہے، جہاں سائنسدانوں نے ایک ایسے مصنوعی خلیے کو بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے جو خود کو کھانا کھلا، بڑھا اور تقسیم کر سکتا ہے۔
2 جولائی 2026 کو انفوبائے آلا تاردے سے بات کرتے ہوئے بیلارینی نے بیان کیا کہ مصنوعی خلیہ وہ ہے جسے انسان بناتا ہے۔ یہ کسی موجودہ چیز کو تبدیل نہیں کرتا، بلکہ تمام عناصر کو ایک بوتل میں رکھتا ہے اور اس خلیے کو زندگی دیتا ہے۔
منی سوٹا کے تجربے کا مرکز ایک خلیہ تھا جسے اسپڈ سیل (Spudcell) کا نام دیا گیا، جس میں ایک عام بیکٹیریا سے 25 گنا کم جینیاتی معلومات موجود ہیں۔ ماہر نے کہا کہ اس میں صرف خود کو دہرانے اور کھانے کے لیے ضروری معلومات ہیں۔ یہ بہت ابتدائی ہے۔
اس دریافت کا ایک حیرت انگیز پہلو اس کی اشاعت کا عمل تھا۔ اس مطالعے کو ابتدا میں معروف میگزین سیل (Cell) نے مسترد کر دیا تھا۔ اس پر محقق نے اسے ایک ویب سائٹ پر بغیر کسی پیٹنٹ کے مکمل طور پر شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ صرف ایک ہفتے میں، انہوں نے ایک فاؤنڈیشن قائم کی اور دس ملین ڈالر کی سرمائے جمع کر لی۔
بیلارینی نے خوشی سے نوٹ کیا کہ اس سائنسی آلے کے مثبت استعمال کا ایک بہت بڑا میدان ہے، جس میں زیادہ مؤثر طریقے سے توانائی، مالیکیول اور دوائیں پیدا کرنا شامل ہے۔ تاہم، انہوں نے خطرات کے بارے میں بھی خبردار کیا: ہر تکنیک کی طرح، یہ ایک دو دھاری تلوار ہو سکتی ہے اور غلط ہاتھوں میں پڑنے پر مہلک نتائج نکل سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، سائنسدان نے انسان کی ابدی زندگی کی تلاش پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ خلیاتی سطح پر بڑھاپا آتا ہے اور جینوں کو تبدیل کر کے چوہوں کو نوجوان بنانے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ یہ عمل جلد انسانوں پر بھی لاگو ہو سکتا ہے، جو ایک بڑا اخلاقی بحث اور دواخانہ کی صنعت پر غیر معمولی اثر لے کر آئے گا۔
Alfredo S. Quiroga