21/07/2026 21:29 - Internacionales
نکاراگوا (وسطی امریکہ کا ایک ملک) کے صدر ڈینیل اورٹیگا (80 سال) نے 19 جولائی 2026 کو سینڈینسٹا انقلاب کے 47 ویں سالگرہ کے موقع پر دنیا کو حیران کر دیتے ہوئے ایک واضح پیغام دیا: 'یہاں دوبارہ انتخابات نہیں ہوں گے'۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم حزب اختلاف کو حکومت پر قبضہ کرنے سے روکنے کے لیے ہے۔
اورٹیگا، جو 2007 سے اس ملک پر حکومت کر رہے ہیں اور فروری 2025 سے اپنی اہلیہ روزاریو موریلو کے ساتھ شریک صدر کے طور پر اقتدار بانٹ رہے ہیں، نے قومی اسمبلی کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے لیے 'دیوار' کھڑی کرنے کے قوانین تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس اعلان نے نومبر 2027 میں ہونے والے انتخابات کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے ہیں۔
ردعمل کے طور پر، 21 جولائی 2026 کو امریکہ کے سیکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے 'ایک کال ٹو ایکشن' کے عنوان سے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ 'ٹرمپ حکومت اور بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر خاموش نہیں بیٹھے گی'۔ روبیو نے کہا کہ اورٹیگا کے بیانات 'ان کی بزدلی اور نکاراگوا کے عوام کی مرضی سے ڈرنے کا ثبوت ہیں'۔
بین الاقوامی برادری نے بھی اس اقدام کی مذمت میں اپنا اتحاد جوڑ لیا ہے۔ پاناما نے ماناگوا میں اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے، جبکہ کوسٹا ریکا نے شہری جگہوں کے بند ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انٹر امریکن کمیشن آن ہیومن رائٹس (CIDH) اور دیگر تنظیموں نے اس اقدام کو 'جمہوری اصولوں کے بالکل برعکس' قرار دیا ہے۔
اس اعلان کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ 2021 کے آخری انتخابات میں، حکومت نے سات ممتاز حزب اختلاف کے امیدواروں کو جیل میں ڈال دیا تھا اور 75.92% ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی، جسے امریکہ نے ایک 'نمائشی انتخابات' قرار دیا تھا۔ اورٹیگا، جو 1979 میں انقلاب لے کر آئے تھے، 1990 میں اقتدار سے محروم ہو گئے تھے لیکن 2007 میں قانونی اصلاحات کے ذریعے دوبارہ اقتدار میں آ گئے۔
اس پیچیدہ صورتحال کے باوجود، جلاوطن نکاراگوا کی حزب اختلاف، بشمول سابق امیدوار فیلیکس مارادیاگا، امید کی کرن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ مارادیاگا نے کہا کہ یہ اعلان حکومت کی 'حقیقی آمرانہ نوعیت' کو بے نقاب کرتا ہے۔ بین الاقوامی سفارتی دباؤ اور جمہوری ممالک کا اتحاد اس بات کی امید کرواتا ہے کہ نکاراگوا کے عوام کو بالآخر آزادی سے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق مل جائے گا۔
Alfredo S. Quiroga