20/06/2026 12:58 - Internacionales
Silueta elegante masculina de los años 70 con sombrero caminando hacia la oscuridad frente a una mansion victoriana londinense de ladrillo rojo. Atmósfera de misterio con niebla y luz tenue de farol antiguos.
7 نومبر 1974 کو لندن کے متمول علاقے بیلگریویا میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو برطانوی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے یاد رکھا جائے گا۔ جان بنہم، جو لارڈ لوکان کے نام سے مشہور تھا، نے اپنے بچوں کی 29 سالہ ننی سینڈرا ریویٹ کو قتل کر دیا۔
لارڈ لوکان 40 سال کا تھا اور برطانوی امرات میں اس کا بڑا مقام تھا۔ اس نے اپنی بیوی ویرونیکا ڈنکن کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اندھیرے میں اس نے ننی کو اپنی بیوی سمجھ لیا اور اسے مار ڈالا۔
ویرونیکا چند منٹ بعد پہنچی اور لارڈ لوکان نے اس پر بھی حملہ کیا، لیکن وہ بچ گئی اور پولیس کو اطلاع دے گئی۔ لارڈ لوکان وہاں سے بھاگ گیا اور آج تک نہیں ملا۔
19 جون 1975 کو ایک برطانوی عدالت نے لارڈ لوکان کو سینڈرا ریویٹ کے قتل کا مجرم قرار دیا۔ عدالت نے صرف 31 منٹ میں فیصلہ سنایا۔ یہ برطانوی تاریخ کا ایک انوکھا کیس تھا جہاں ملزم عدالت میں موجود نہیں تھا۔
برطانوی قانون کے مطابق اگر ملزم فرار ہو تو اس کی غیر موجودگی میں بھی مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ لارڈ لوکان کیس برطانیہ کے سب سے مشہور ان سلوزڈ کیسز میں سے ایک ہے۔
ویرونیکا ڈنکن (1937-2017)، جو لارڈ لوکان کی بیوی تھی، نے بہت زیادہ قیمت ادا کی۔ اسے اپنے تین بچوں کی تحویل سے محروم ہونا پڑا اور دہائیوں تک اپنی زندگی بحال کرنے کی جنگ لڑنی پڑی۔ وہ 2017 میں بغیر کسی یقینی جواب کے فوت ہو گئیں۔
ان کے بچے رشتہ داروں کے پاس پلے بڑھے اور انہیں اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ کچھ وکیلوں کا کہنا ہے کہ یہ کیس ابھی بھی کھلا ہے۔
لارڈ لوکان کیس نے کئی کتابیں، دستاویزی فلمیں اور ٹی وی سیریز بنائی ہیں۔ یہ برطانوی امرات کا ایک اندھیرا باب ہے جہاں ایک نواب نے ایک خوفناک جرم کیا اور پھر غائب ہو گیا۔
آج تک برطانوی پراسیکیوشن یہ کیس کھلا رکھا ہوا ہے۔ 2016 میں ایک فیملی کورٹ نے لارڈ لوکان کو سرکاری طور پر مردہ قرار دیا، جس سے اس کے بڑے بیٹے کو نواب کا خطاب مل گیا۔
ماخذ: La Nación
Alfredo S. Quiroga