22/06/2026 10:19 - Internacionales
Martillo de juez sobre documentos legales en tribunal, balanza de justicia al fondo, iluminación dramática que representa sentencia judicial histórica
ہسپانوی سیاست میں ایک تاریخی لمحہ آیا ہے جب سپریم کورٹ نے سابق وزیر نقل و حمل خوسے لوئیس آبالوس کو 24 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ سزا اسے 'ماسک کیس' میں ملی ہے، جو کورونا وبا کے دوران صحت کے سامان کی خرید میں ہونے والی بدعنوانی کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے۔
عدالت نے ان کے قریبی ساتھی کولڈو گارسیا کو بھی 19 سال قید کی سزا دی ہے۔ یہ دونوں افراد سرکاری ٹھیکوں میں گھپلے باز، رشوت اور غیرقانونی نوازش کے مجرم پائے گئے۔
2020 میں جب کورونا وبا پھیلی، تو ہسپانوی حکومت کو فوری طور پر ماسک اور دیگر صحت کا سامان خریدنا پڑا۔ اس ایمرجنسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، سابق وزیر اور ان کے دوستوں نے لاکھوں یورو کے ٹھیکے اپنے متعلقہ افراد کو دیے۔
عدالت نے ثابت کیا کہ آبالوس نے تقریباً 2 ملین یورو رشوت لی تاکہ ویکٹر ڈی الداما کی کمپنی کو ماسکوں کا بڑا کنٹریکٹ مل سکے۔ الداما ہی نے یہ ساری کہانی عدالت کو سنائی تھی۔
| نام | عہدہ | سزا |
|---|---|---|
| خوسے لوئیس آبالوس | سابق وزیر | 24 سال |
| کولڈو گارسیا | سابق مشیر | 19 سال |
| ویکٹر ڈی الداما | تاجر | 4.5 سال* |
*عدالت کی مدد کرنے پر سزا معطل
اس فیصلے نے ہسپانوی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ موجودہ وزیر آسکر پوینٹے نے الداما کو سزا معطل کرنے پر تنقید کی۔ حزب اختلاف کے لیڈر فیجوجو نے حکومت پر زور بڑھا دیا ہے۔
اس کیس سے پیدرو سانچیز کی حکومت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ ہسپانوی سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کے لیے یہ ایک شرمناک واقعہ ہے۔
یہ کیس ارجنٹائن کے 'کچہوں کا رساو' جیسے بدعنوانی کیسوں سے ملتا جلتا ہے۔ جیسے ارجنٹائن میں کرپٹ سیاستدانوں کو سزائیں مل رہی ہیں، ویسے ہی ہسپانیہ بھی اپنی سیاست کو صاف کر رہا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ بدعنوانی کسی بھی ملک میں قابل برداشت نہیں۔
مآخذ: Infobae / EFE - 22 جون 2026
Alfredo S. Quiroga