زیدان: ڈریسنگ روم کی صفائی کے لیے بادشاہ کی واپسی
یہ وہ زیدان نہیں ہیں جو ریال میڈرڈ میں گیند کے ساتھ جادو دکھاتے تھے؛ یہ کوچ زیدان ہیں، جو اب اصول قائم کرنے آئے ہیں۔ 18 ستمبر کو عہدہ سنبھالنے کے بعد، انہوں نے نظم و ضبط کا ایسا سخت نظام نافذ کیا ہے جس نے جدید دور کے کھلاڑیوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔
🚫 "زیدان کوڈ" (سخت قوانین):
- کیمروں پر پابندی: کلیر فونٹین (ٹیم کی ٹریننگ کیمپ) میں آمد کے وقت کسی بھی قسم کی فوٹوگرافی یا ویڈیوز کی اجازت نہیں ہوگی۔
- فیشن کو خیرباد: ٹریننگ سینٹر میں داخل ہونے کے لیے عجیب و غریب اور پرتعیش لباس پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔
- ٹیکنالوجی سے دوری: موبائل فونز کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاکہ کھلاڑی کھیل پر توجہ دیں۔
- انا کا خاتمہ: انفرادی انٹرویو معطل کر دیے گئے ہیں تاکہ ٹیم ورک کو فروغ ملے۔
زیدان کا ماننا ہے کہ جیتنے کے لیے بنیادی اصولوں کی طرف لوٹنا ضروری ہے۔ انہیں ماڈلز نہیں بلکہ جنگجو کھلاڑی چاہئیں۔ اسی لیے اپنی پہلی لسٹ میں انہوں نے بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کیا: ہیرنینڈیز بھائیوں اور چوآمینئی (Tchouaméni) کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا ہے، جو اس بات کا واضح پیغام ہے کہ نظم و ضبط کے سامنے کوئی بھی کھلاڑی ناقابلِ تسخیر نہیں ہے۔
✨ نئے ستارے (نوجوان نسل)
کوچ نے ٹیم میں نئی روح پھونکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کاماوینگا (Camavinga) کی واپسی ایک بڑی خبر ہے، لیکن اصل توجہ نئے کھلاڑیوں پر ہے۔ جرمی جیکوئیٹ (Jérémy Jacquet)، گیوم ریسٹس (Guillaume Restes) اور ایستبان لی پاول (Esteban Lepaul) جیسے نوجوانوں کو اعلیٰ ترین سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا سنہری موقع ملا ہے۔
📅 پہلا بڑا امتحان
اب جذباتیت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ زیدان کی ٹیم کا پہلا میچ 25 ستمبر کو ترکی کے خلاف 'نیشنز لیگ' (Nations League) میں ہوگا۔ یہ میچ فیصلہ کرے گا کہ زیدان کا سخت نظم و ضبط میدان میں رنگ لاتا ہے یا یہ تبدیلی کھلاڑیوں کے لیے مشکل ثابت ہوتی ہے۔