اسپین کی سیاست میں ایک بڑا موڑ آگیا ہے جہاں پیپلز پارٹی (PP) کے رہنما البرتو ننیز فیجو نے ملک کی قیادت سنبھالنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ ایک پروقار تقریب میں، انہوں نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی اور اسپین کے لیے ایک 'نئے سماجی معاہدے' کی تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد رہائشی بحران اور تارکین وطن کے مسائل کو حل کرنا ہے۔

اسپین کی تعمیرِ نو کا منصوبہ: فیجو کا لائحہ عمل

Campus FAES 2026 کی اختتامی تقریب محض ایک تعلیمی ایونٹ نہیں تھی، بلکہ یہ البرتو ننیز فیجو کی جانب سے حکومت کی قیادت کے لیے ایک باقاعدہ آغاز تھا۔ پیپلز پارٹی (PP) کے لیڈر نے واضح کیا کہ ان کا ہدف انتخابی اکثریت حاصل کر کے موجودہ وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کے انتظامی ماڈل کو تبدیل کرنا ہے۔

فیجو کے منصوبے کا محور ادارہ جاتی تعمیرِ نو ہے، جس میں وہ سابق وزیر اعظم جوزے ماریا ازنار کے دور کے استحکام اور انتظامی صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اسپین کے دو بڑے زخموں، یعنی گھروں کی شدید قلت اور سیوٹا (Ceuta) اور ملیلا (Melilla) کی سرحدوں پر تارکین وطن کے انتظام پر توجہ مرکوز کی ہے، اور الزام لگایا ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں موجودہ حکومت نے رہائشی مسائل کو مزید بگاڑ دیا ہے۔

پس منظر اور مقامی صورتحال (Context)

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشلسٹ پارٹی (PSOE) انتہائی کمزوری کا شکار ہے۔ DYM کے سروے کے مطابق، حکومت کی مقبولیت گر کر 26.3% رہ گئی ہے، جبکہ دائیں بازو کی سخت گیر پارٹی VOX 17.3% تک پہنچ گئی ہے۔ اس سیاسی تناؤ کے درمیان 87 سالہ ماریکارمن کے گھر سے بے دخلی کے واقعے نے عوام میں غم و غصہ پھیلا دیا ہے، جسے پیپلز پارٹی نے حکومت کی ناکامی کے طور پر پیش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سالانہ بے دخلی کے کیسز میں 11% اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو 29 ستمبر تک رہائشی ڈیکری کے لیے مذاکرات کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

طاقت کی جنگ: اتحاد اور تنقید

تقریب میں جوزے ماریا ازنار کی موجودگی نے قدامت پسند بلاک کی اتحاد کی علامت کو نمایاں کیا۔ ازنار نے فیجو کو موجودہ حکومت کے "جمہوریت مخالف" اور "پوپولسٹ" رویوں کے خلاف ایک واحد حل کے طور پر پیش کیا۔

تارکین وطن کے بحران پر بات کرتے ہوئے فیجو نے سخت موقف اپنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ سانچیز حکومت مراکش سے سیوٹا اور ملیلا کی سرحدوں پر مؤثر کنٹرول کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی ہے، اور وہ اس عوامی بے چینی کو ووٹوں میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اہم حقیقت: فیجو نے اپنی سیاسی پختگی کا حوالہ دیتے ہوئے 2016 کے گلیسیان انتخابات کی دسویں سالگرہ کا ذکر کیا، جس سے ان کے اس سیاسی سفر کی عکاسی ہوتی ہے جو انہوں نے سال 2000 میں پیپلز پارٹی سے شروع کیا تھا۔

جہاں حکومت مختلف سیاسی گروپوں (Junts اور Sumar) کو رعایتیں دے کر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، وہاں فیجو نے ایک انقلابی حل پیش کیا ہے: دس لاکھ (1 Million) نئے گھروں کی تعمیر۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عوامی سرمایہ کاری ہی اصل حل ہے، نہ کہ سماجی کیسز کا سیاسی استعمال۔

مستقبل کے ممکنہ منظرنامے
  • قبل از وقت انتخابات: اگر 29 ستمبر کی رہائشی ڈیکری ناکام ہوتی ہے، تو فیجو انتخابات کو وقت سے پہلے کروانے کے لیے دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔
  • قدامت پسند اتحاد: ازنار کی حمایت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور دیگر قدامت پسند گروپ مل کر ووٹوں کے پھیلاؤ کو روکیں گے۔
  • سفارتی تناؤ: فیجو کی ممکنہ حکومت مراکش کے ساتھ تعلقات میں سختی لا سکتی ہے تاکہ سرحدوں پر تارکین وطن کے بہاؤ کو روکا جا سکے۔