میٹروپولیٹانو: سفید لباس والوں کے لیے ایک مشکل رات
اتوار 20 ستمبر کا دن ایک ایسی ڈربی کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں تناؤ عروج پر تھا۔ ایٹلیٹیکو ڈی میڈرڈ نے ریال میڈرڈ کو 2-1 سے شکست دی۔ اس میچ میں ریفری کے متنازع فیصلے، کھلاڑیوں کا میدان سے باہر جانا اور مباپے کی خاموشی نمایاں رہی۔
میچ کا احوال: افراتفری اور گول
میچ کا آغاز سست تھا، لیکن ایک بڑی غلطی نے کھیل کا رخ بدل دیا۔ ریال میڈرڈ کے دفاعی کھلاڑی ڈین ہوجسین نے ایک پنالٹی کی غلطی کی، جس کی وجہ سے نہ صرف گول ہوا بلکہ انہیں ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھی بھیج دیا گیا۔ ایلکس گرمالڈو نے انتہائی سکون کے ساتھ پنالٹی کو گول میں بدل کر سکور 1-0 کر دیا۔
ایٹلیٹیکو، جو کھیل پر قابو رکھے ہوئے تھی، نے کینیڈین فارورڈ جونا تھن ڈیوڈ کے ذریعے دوسرا گول کر کے اپنی برتری کو یقینی بنایا۔ ریال میڈرڈ، جو دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی، صرف آخر میں انٹونیو روڈیگر کے ہیڈر کے ذریعے ایک گول کر سکی، لیکن یہ جیت کے لیے کافی نہیں تھا۔
سب سے زیادہ حیران کن بات کیلیان مباپے کی کارکردگی تھی، جو میدان میں موجود تو تھے لیکن ایٹلیٹیکو کے دفاع کو توڑنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
آخری سکور
گول کرنے والے: گرمالڈو، جونا تھن ڈیوڈ / روڈیگر
VAR اور مورینہو کا انداز
میچ کے بعد کا منظر بھی کسی جنگ سے کم نہ تھا۔ VAR (ویڈیو اسسٹ ریفری) نے ایک اہم کردار ادا کیا جب بیلنگھم کے پیلے کارڈ کو تبدیل کر کے کرسٹیان رومیرو کو کارڈ دیا گیا اور ہوجسین کے ریڈ کارڈ کی تصدیق کی گئی۔
مورینہو نے اپنی مخصوص جارحانہ انداز میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ریفری کے فیصلے غیر منصفانہ تھے اور لی کانگ-ان اور رومیرو جیسے کھلاڑیوں کو بہت پہلے باہر جانا چاہیے تھا۔ ماحول اس وقت مزید گرم ہو گیا جب ریال میڈرڈ کے اسسٹنٹ اور ایٹلیٹیکو کے گول کیپر کوچ کو پہلے ہاف کے اختتام پر نکالا گیا۔
مزید تفصیلات کے لیے اصل خبر یہاں پڑھیں: The Guardian