کیف میں دہشت اور استقامت کی ایک رات
5 اگست 2026 کی صبح سویرے اس تنازع کی شدید ترین بمباری میں سے ایک ہوئی، لیکن اس نے یوکرینی عوام کے ناقابلِ شکست عزم کو بھی ظاہر کیا۔
بھرپور حملے کی تفصیلات
ایمرجنسی سروسز اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق، منگل 4 سے بدھ 5 اگست 2026 کی رات روس نے یوکرین کے دارالحکومت اور اس کے علاقے پر 24 بیلسٹک میزائل، 4 زیرکون/اونکس قسم کے میزائل اور 115 ڈرونز داغے۔ فضائی دفاعی نظام نے 98 ڈرونز (شاہد، گربیرا اور ایتالماس قسم کے) کو ناکارہ بنا دیا، جو اس بڑے حملے کے پیش نظر ایک اہم کامیابی ہے۔
تاہم، امریکی ساختہ پیٹریاٹ سسٹمز کے لیے انٹرسیپٹرز کی کمی، جو جدید بیلسٹک میزائلوں کو گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کی وجہ سے کوئی بھی روسی میزائل روکا نہ جا سکا۔ دفاعی ہتھیاروں کی یہ قلت یوکرین کے لیے ایک نازک چیلنج بنی ہوئی ہے، جو اپنے اتحادیوں سے ان سسٹمز کی فوری فراہمی کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
شہری ہلاکتیں اور انفراسٹرکچر کو نقصان
اس حملے کا نتیجہ 17 افراد کی ہلاکت (کیف کے علاقے میں 14 اور شہر میں 3) اور 44 زخمی تھا۔ ریسکیو ٹیموں نے اوبولونسکی، سویاتوشینسکی، ہولوسیویسکی اور دیسنیانسکی اضلاع میں آگ بجھانے کے لیے انتہائی خطرناک حالات میں کام کیا۔ علاقے میں برووری، بوچا اور فاسٹیو سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں گوداموں میں بڑی آگ لگی۔
حملے خالصتاً شہری اور تجارتی انفراسٹرکچر پر ہوئے۔ روزیٹکا (یوکرین کی سب سے بڑی ای کامرس پلیٹ فارم) اور ایپی سینٹر (IKEA جیسی خوردہ زنجیر) جیسی کمپنیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ فوزی گروپ، جو سپر مارکیٹ چلاتا ہے، نے اپنے 6 ملازمین کی ہلاکت اور دو ڈسٹری بیوشن سینٹرز میں آگ لگنے کی اطلاع دی۔ اس کے علاوہ، ایک بریوری، ایک ہارڈویئر کی دکان، ایک ریلوے اسٹیشن پر حملے ہوئے اور امونیا کے اخراج پر قابو پایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہداف کا فوجی تعلق نہیں تھا۔
زیلنسکی کا عالمی برادری سے مطالبہ
یوکرینی صدر نے زور دیا کہ بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹرز جانیں بچا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا: "یہ ضروری ہے کہ ہمارے شراکت دار سمجھیں کہ ان سسٹمز کی فراہمی میں تاخیر براہ راست خوفناک واقعات، ہلاکتوں اور تباہی کا سبب بنتی ہے۔" زیلنسکی نے اتحادیوں سے ہتھیاروں کی ترسیل تیز کرنے یا ماسکو پر نئی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا۔
جولائی کے آخری ہفتے میں، زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تاکہ یوکرین میں براہ راست پیٹریاٹ سسٹمز کی تیاری کے لائسنس حاصل کیے جا سکیں، یہ اقدام ابھی زیرِ غور ہے۔
یوکرین کا جوابی حملہ اور سیاق و سباق
یوکرین نے بھی خاموشی اختیار نہیں کی اور روسی سرزمین پر ڈرونز کے ذریعے جوابی حملہ کیا، جس میں وائلڈ بیریز (روس کا "ایمیزون") کے لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس پر کیف نے روسی فوج کے ساتھ تعاون کا الزام لگایا۔ ماسکو کے علاقے میں اس حملے میں 5 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے، جبکہ تولا کے علاقے میں روسی دفاع نے 107 ڈرونز کو روکنے اور وائلڈ بیریز کے گوداموں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی۔
اسی دوران، روسی دفاعی کمپنی یورال ڈرون (جو اُپیر ڈرونز تیار کرتی ہے) کے ڈائریکٹر ولادیمیر تکاچوک، سویرڈلوسک کے علاقے میں کار بم دھماکے میں زخمی ہو گئے اور انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
تنازع کا انسانی قیمت
یوکرین میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 2026 کی پہلی ششماہی میں یوکرین میں 1,396 شہری ہلاک اور 7,978 زخمی ہوئے، جو 2025 کی اسی مدت کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ ہے۔ جولائی 2026 اپریل 2022 کے بعد سب سے مہلک مہینہ تھا، جس میں کم از کم 377 شہری ہلاک اور 2,129 زخمی ہوئے۔ حال ہی میں، خیرسون میں ایک سبزی فروش کا روسی ڈرون کے ذریعے پیچھا کرنے کی تصاویر نے دنیا کو چونکا دیا، جو شہری آبادی کے لیے خطرات کو اجاگر کرتی ہیں۔
اس تلخ حقیقت کے باوجود، یوکرین کی مزاحمتی روح برقرار ہے۔ ایمرجنسی ٹیموں کا مسلسل کام، فضائی دفاع میں تکنیکی ترقی اور بین الاقوامی یکجہتی خطے میں امن اور شہری زندگی کے تحفظ کی تلاش میں امید کی کرن ہیں۔
ذرائع: CNN en Español, Infobae, El País, Vatican News.