ڈیلسی روڈریگز کی عبوری حکومت نے امن اور جمہوری بقائے باہمی کے پروگرام کے تحت 131 قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا۔ ان میں ایمیرلینڈریس بینیٹیز بھی ہیں، جنہیں ڈرون حملے کے الزام میں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، اور انہوں نے جیل میں تشدد اور حمل ضائع ہونے کی شکایت کی تھی۔ یہ رہائی اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہوئی ہے۔

مفاہمت کی طرف ایک قدم

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے جمعہ 14 اگست 2026 کو اعلان کیا کہ 131 افراد کو قید سے رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام "امن اور جمہوری بقائے باہمی کے پروگرام" کے تحت کیا گیا، جسے عدالتوں نے وزارتِ عامہ کی درخواست پر منظور کیا۔ یہ رہائی ان مذاکرات کے بعد ہوئی ہے جو گزشتہ ہفتے حکومت اور اپوزیشن کے ایک دھڑے کے درمیان ہوئے تھے، جنہیں امریکہ نے فروغ دیا تھا۔

"یہ پروگرام حکومت اور سول سوسائٹی کی ان اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا جو وینزویلا کے لوگوں کے درمیان مفاہمت کو فروغ دیتے ہیں۔"

ایمیرلینڈریس بینیٹیز کا معاملہ

رہا ہونے والوں میں ایمیرلینڈریس بینیٹیز بھی شامل ہیں، جنہیں 2018 میں ڈرون حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت چار ماہ کی حاملہ تھیں۔ انہیں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جیل میں انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے ان کا حمل ضائع ہو گیا اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئیں۔ بین الاقوامی اداروں نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

دیگر رہائی اور ردعمل

فورو پینل نامی تنظیم نے تصدیق کی کہ اب تک 64 افراد رہا ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ جوآن کارلوس ماروفو اور ان کی اہلیہ بھی رہا ہوئے۔ پلازہ وینزویلا کیس سے منسلک کچھ افراد بھی رہا ہوئے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسے ملک کی مفاہمت کا اہم قدم قرار دیا۔

معافی کا قانون

یہ رہائی 19 فروری 2026 کو نافذ ہونے والے "معافی اور جمہوری بقائے باہمی کے قانون" کے تحت کی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت اب تک 8,740 افراد کو فائدہ پہنچا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ یہ رہائی ان کی بے گناہی کا اعتراف نہیں ہے۔