نیپال اور تبت کے درمیان شدت پسند سیلاب
بدھ کے روز 26 اگست 2026 کو مقامی وقت کے مطابق 8:30 بجے صبح کے قریب، نیپال اور تبت کے درمیانے علاقے میں دریا کی اچانک آمد سے شدید تباہی ہوئی۔ یہ آفت دریا بوٹھ کوشی پر مٹی اور چٹانوں کا دیوالگر کے منہدم ہونے کے بعد ہوئی، جو تبت کے کنارے کے قریب واقع تھا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس دیوال کے گرجنے کی وجہ ایک زہزلہ ہو سکتی ہے، لیکن سرکاری اطلاعات کی ابھی تک تفصیلت کے ساتھ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اس سیلاب نے نیپال کے رسوعہ اور نوواکوٹ اضلاع اور تبت کے گیرینگ علاقے میں کئی مکانات کو تباہ کر دیا، سڑکوں کا نظام درہم برہم ہو گیا اور بجلی کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جن میں لوگ بچت کی کوشش میں پانی کے تیز بہاؤ سے نکلنے کی بے چینی سے دوڑ رہے ہیں۔
علاقے کی شہادتی
مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے وائرل ہونے والے ویڈیو میں لوگوں کو دریا کے ذد میں بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ دوسرے لوگ پہاڑی کنارے سے ای آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سب سے پریشان کن اعداد و شمار: 400 سے زیادہ لاپتہ
نیپال کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اسموقت تک 157 لاشیں برآمد ہوئیں جبکہ 400 سے زیادہ مسافر لاپتہ ہیں۔ انہی میں ایک بین الاقوامی برادری کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے گروپ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 33 شہری بھی لاپتہ ہیں، جن میں 13 سال کی بچی بھی شامل ہے۔
- 33 برطانی شہری لاپتہ، جنی میں 13 سال کی ایک بچی بھی شامل ہے
- 2 آئرلینڈی شہری بھی لاپتہ ہیں
- 8 جنوبی کوئی وطن عزیز جو پن بجلی کے پلانٹ پر کام کرتے تھے، کا کچھ پتہ نہیں چلا اور 10 دیگر پھنیکے۔
- 100 سے زیادہ نامعلوم افراد جن کی ملیت یقینی نہیں ہو سکی
- کل 341 غیر ملکی جن کی تلاش جاری ہے
لاپتہ برطانوی گروپ
کمپنی الپائن ایکو ٹریک کے میجر, کمار اریکانا, نے بتایا کہ ان کی ٹیم کے 4 نیپالی گائیڈ (38, 35, 45, اور 29 سال) بھی لاپتہ ہیں۔ برطانوی گروپ، جس میں 3 مرد اور 7 خواتین شامل ہیں، کیلاس پہاڑی کی یاترا کے لیے نکلا تھا، جو نیپال سے چین کے تبت خود مختار علاقے میں ایک مقدس مقام ہے۔
- مرد: 65, 64, 52 سال
- خواتین: 44, 47, 51, 60, 63, 63, 65 سال
کمپنی کے مطابق، گروپ تبتسے در کے امامت آفس میں پھنکار تھا اور بدھ کی صبح 8-40 پر ان سے رابطہ منغفل ہو گیا تھا۔ ادرکانہ نے بتایا، “ہمیں بتایا گیا کہ ایک بہت بڑا شوق ہوا اور پھر اچانک پانی عمارت میں گھس گیا۔”
سرکاری ایکشن اور پیشگی اطلاعات
کاٹھمنڈ میں نیپال کے وزرائے اعلا ششر خانال نے پارلیمنٹ میں ممکنہ زہزلے کی طرف نشاندہی کی۔ لندن میں برطانیہ کے وزرائے خارجہ ایڈ میلبند نے کہا کہ وہ نیپال سے آنے والی خبروں کے حوالے سے پریشان ہیں اور برطانیہ کے شہریوں کی مدد کے لیے کرتیگای ہے۔
عالمی سطح پر اظہارِ یکجہتی
برطانیہ، آسٹریلیا، یورپی یونین، فنلینڈ، فرانس، ناروے اور سوئٹزرلینڈ کے سفارتی مشن نے متحدہ بیان جاری کیا ہے جس میں متاثرین کے لیے غم کا اظہار کیا گیا ہے اور امداد میںہی تعاون کی یقینیہ دی ہے۔
تباہی کی مقدار ابھی اور واضح ہو سکتی ہے، کیونکہ ریسکیو ٹیمیں اور قابل بحثیئن اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ برطانوی متاثرین سے رابطہ کرنے اور ان کی مدد کرنے کے لیے قونصلیٹ ساروی تمام ممکنہ کوششیں کر رہا ہے۔