نیپال اور تبت کی سرحد پر 5200 میٹر کی بلندی پر واقع گلیشیئر کے ٹوٹنے سے تباہ کن سیلاب آیا جس نے پورے گاؤں اور پن بجلی منصوبے بہا دیے۔ 160 سے زائد اموات اور سینکڑوں لاپتہ افراد کے ساتھ، امدادی ٹیمیں رات دن کام کر رہی ہیں جبکہ نئے خطرات نے خطے کی فضا کشیدہ کر دی ہے۔ ماہرین اس سانحے کو موسمیاتی تبدیلی سے جوڑ رہے ہیں۔

5200 میٹر کی بلندی پر تباہی

26 اگست 2026 بروز بدھ کو فطرت نے اپنی قہر کا مظاہرہ دور دراز کے ہندوکش-ہمالیہ علاقے میں کیا۔ نیپال (راسوہ ضلع) اور چین کے تبت (گیاتسو کاؤنٹی) کی سرحد پر واقع ایک گلیشیئر کے نچلے حصے کا ایک بڑا ٹکڑا، جو سطح سمندر سے تقریباً 5,200 میٹر بلند تھا، ٹوٹ کر تقریباً 1,200 میٹر نیچے وادی میں جا گرا۔

پلانیٹ لیبز کی سیٹلائٹ تصاویر، جہیں روئٹرز نے تجزیہ کیا، گلیشیئر کے زبان کے حصے کے ٹوٹنے کی تصدیق کرتی ہیں۔ برف اور ملبے کا یہ بہاؤ لھندے دریا میں جا گرا، جو پھر بوتے کوشی اور تریسولی کے ندی نظاموں میں داخل ہو کر ایک تباہ کن سیلابی ریلے میں تبدیل ہو گیا جس نے اپنی راہ میں آنے والی ہر چیز بہت دی۔

سیلابی ریلے کیا ہے؟ یہ پانی اور تلچھٹ کا ایک تیز بہاؤ ہے جو پہاڑی ڈھلوانوں سے نیچے آتا ہے، جسے انگریزی میں ڈیبرس فلو کہتے ہیں۔ اس معاملے میں، برف پگھلنے کا پانی، برف اور پتھر نے ایک دیوار کی شکل اختیار کر لی جو تباہی مچاتی چلی آئی۔ مقامی میڈیا نے اسے “پانی کا سونامی” کا نام دیا۔

ایک دریا جو آدھے گھنٹے میں 9 میٹر بلند ہو گیا

ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کے مرکز ICIMOD کے اعداد و شمار اس واقعے کی شدت ظاہر کرتے ہیں: گلچھی کے مقام پر دریا کی سطح میں صرف 30 منٹ میں 9 میٹر کا اضافہ ہوا۔ یہ سرکشی کے چند گھنٹوں بعد ہی ہوا۔

بھارت کی سکم یونیورسٹی کے جیالوجسٹ وکرام گپتا نے اسے ‘گلیشیئر کی زبان کے حصے کا گربان’ قرار دیا۔ کینیڈا کی کیلگری یونیورسٹی کے جیولوجسٹ ڈین شوگر نے بتایا کہ پیشتر 24 گھنٹوں میں نمایاں پگھلاؤ دیکھا گیا، جو گرمائش کا قوی اشارہ ہے۔

نیپال کی حکومت، جس نے اسے بڑے پیمانے کی تباہی قرار دیا، نے اطلاع دی کہ پانی نے دونوں طرف پن بجلی پلانٹوں، پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا، جس سے کئی آبادیاں کٹ گئیں۔

انسانی نقصان: ایک فکہنما تعداد

اب تک کا اندازہ خوفناک ہے: کم از کم 160 اموتس اور 1,800 سے زائد لاپتہ افراد دونوں ملکوں میں۔ خاص طور پر، نیپال میں 157 اموات اور 300 سے زائد لاپتہ، جبکہ چین کے گیاتننگ میں 3 اموات اور 558 لاپتہ۔

نیپال میں رابطے سے متوقع افراد کی فہرست 484 پر مشتصل ہے، جن میں 391 غیر ملکی، 93 نیپالی، 44 فوجی، 28 پولیس، 13 پولیس اور فوج کے ارکان، اور 60 پن بجل منصوں کے کارکن شامل ہیں۔ تبت میں لاپتہ افراد میں 260 غیر ملکی شامل ہیں۔

سانحے کے اہم اعداد

ملکامواتلاپتہکل متاثرین
نیپال157+300484 (بغیر رابطہ)
چین (تبت)3558+260 غیر ملکی لاپتہ
مجموعی+160+858+1,000

نیپال کے وزیر اعظم بیلندر شاہ کی سربراہی میں حکومت نے وسعت پیمدانہ امداد کا حکم دیا ہے۔

ریسکیو اور بین الاقوامی تعاون

27 اگست کی صبح سے، فوجی اور پرائیویٹ ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں کا چکر لگا رہے ہیں۔ تقریباً 3,300 اہلکار مختلف اضلاع میں منائے گئے ہیں، ان کے ساتھ 4 ڈرون بھی ملبہ کی پرواز کر رہے ہیں۔

چین کی جانب، تلاش بارشوں، غیر مستحکم ڈھلوانوں اور مواصلاتی کٹیج کی وجہ سے مشکل ہے۔ اسی کے ساتھ، سکر کے پھسلن سے ایک قدرتی طور پر مسدود جھیل بھی بن چکی ہے، جو ثانوی سیلاب کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔ سیچوان سے ایک ڈرون موبائل اسٹیشن اور سیٹلائٹ کے ساتھ روانہ کیا گیا ہے تا کہ کمیونکیشن بحال ہو۔

عالمی برادری نے فوری ردعمل ظاہر کیا۔ امریکہ نے ابتدائی 500,000 ڈالر کی امداد کا اعلان کیا، اور ایک خاص مشیر آفتاب رسپانس کے لیے تفریظ کیا۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہمدردی کا اظہار اور واشنگٹن کے عزم کی یقین دہانی کرائی۔

مثلث کا سبب کیا تھا؟

ماہرین ایک حتمی جواب تلاش کر رہے ہیں۔ پلنیٹ لیبز کی تصاویر، روٹرز نے تجزیہ کی ہیں، گلیشیئر کی زبان ٹوٹنے کو ظاہر کرتی ہیں۔ لیکن سخت آملیت کئی وجوہات کی ہو سکتی تھی:

  • زلزلہ جو سکر کے آنے سے چند منٹ پہلے ریکارڈ ہوا۔
  • گرم درجہ حرارت اور پہمیلاؤ: ڈین شوگر نے 24 گھنٹوں میں نمایاں پہمیلاؤ کی تنبیہ کی۔
  • بارش کی جمع نے ڈھلوانوں کو سیر کر دیا۔

یہ معلوم ہے کہ سکرول لھے دریا پر گرا اور پورے ندی نظام کو اپنے شاخ میں لے گیا، جیسا کہ پرکش پوکھریل، نیپال کی نیشنل اتھارٹی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے جیالوجسٹ، نے تابع کیا ہے۔

گلیشیئرز کا پگھلنا: موسمیاتی تبدیلی کا جواز

ہندوکش-ہمالیہ خطہ، جس میں ہزارہا کمیونٹی اور قطبی علاقوں کے بعد سب سے زیادہ برف ہے، سالوں سے انتباہ دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ 2023 کے مطابق، نیپال کے گلیشیئرز نے پچھلے 30 سالوں میں اپنی برف کا ایک تہائی کھو دیا ہے۔ اس کے علاوہ، نیپالی گلیشیئرز کا پہملاؤ 65 فیصد اس شرح سے تھا جو اس سے اگلی دہاکی میں تھی۔

ان موسمی تبدیلیوں نے پہاڑی سلسلے میں ایسی ہی واقعات کی فریکوئنسی اور شدت بڑھا دی ہے، جو ‘ایشیا کا واٹر ٹاور’ کہلاتا ہے۔ سائنسدان انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی واقعات عام ہونگے، جس لیے ابتدائی انتباہی نظام اور انخلاء کے منصوبے اہم ہیں۔

نقصانات اور پھر سے آبادی

یہ گادری نہیں، بے پناہ نقصان کا منظر ہے۔ سیلابی ریل نے تباہ کیا:

  • کئی پول اور سڑکیں نیپال اور تبت دونوں میں بہہ گئیں۔
  • متاثر علاقے میں کئی پن بجاج منصوبے نقصان پہنچے، جو مقامی معاش کا اہم ذریعہ تھے۔
  • گلچھی میں سطح آب 9 میٹر اٹھ گئی، جو اپنی تاریخ کا عظیم تھی، جس نے کنارے کی بستیوں کو تباہ کیا۔

متاثرین کی شمار جسے بڑھ رہا ہے، ہمالیہ کا پہاڑی علاقہ، سیاحت اور بجلی کی صنعت ایک گہرے زخم کا سامنا ہے۔ تعمیر نو میں کئی سال اور اربوں کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

مزید معلومات کے لیے: