امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ ایک تاریخی معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت امریکہ کو 65 ارب بیرل تیل کے ذخائر پر کنٹرول ملے گا۔ یہ معاہدہ امریکی ٹیکس دہندگان پر کوئی بوجھ ڈالے بغیر کیا گیا ہے اور اس کا مقصد پیٹرول کی قیمتوں میں کمی اور اسٹریٹجک ریزرو کو بحال کرنا ہے۔

ایک تاریخی معاہدہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ 28 اگست 2026 کو وینزویلا کے ساتھ ایک تیل معاہدے کا اعلان کیا جس کے تحت امریکہ کو 65 ارب بیرل تیل کے ذخائر پر کنٹرول ملے گا۔ اس معاہدے پر وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے دستخط کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس معاہدے سے امریکی ٹیکس دہندگان پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

یہ معاہدہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیٹھ کی کوششوں سے طے پایا ہے۔ اس میں نجی کمپنیوں کی شراکت شامل ہوگی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس سے امریکہ کے تیل کے ذخائر دوگنے سے بھی زیادہ ہو جائیں گے، جو فی الحال تقریباً 60 ارب بیرل ہیں۔

"یہ امریکہ کی توانائی خودمختاری کے لیے ایک عظیم دن ہے،" ٹرمپ نے اپنے سرکاری بیان میں کہا۔

وینزویلا: تیل کی دنیا کا بادشاہ

وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، جن کی تعداد 303 ارب بیرل ہے۔ تاہم، اس وقت وہاں روزانہ صرف 1.25 ملین بیرل تیل نکالا جا رہا ہے، جو اس کی تاریخی صلاحیت 3.5 ملین بیرل سے بہت کم ہے۔ اس کی وجہ معاشی بحران اور سرمایہ کاری کی کمی ہے۔

یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے جنوری 2026 میں سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد ڈیلسی روڈریگز عبوری صدر بنیں۔ وینزویلا کی اپوزیشن نے اس معاہدے کو "زمینوں پر قبضہ" قرار دیتے ہوئے امریکہ کو "لالچی اور غنڈہ" کہا ہے۔

مقاصد: قیمتیں اور اسٹریٹجک ریزرو

ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنا ہے، خاص طور پر نومبر 2026 میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے۔ اس کے علاوہ، یہ معاہدہ اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) کو بحال کرنے میں مدد دے گا، جو بائیڈن انتظامیہ کے دوران فروخت کی وجہ سے تاریخی طور پر کم سطح پر ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق، ابتدائی مذاکرات میں امریکہ ایک درجن سے زائد تیل کے کھیتوں میں براہ راست حصہ لینے پر غور کر رہا تھا، جن کے ذخائر تقریباً 90 ارب بیرل تھے۔ حتمی معاہدہ 65 ارب بیرل پر طے پایا ہے۔

اگلا قدم: شیورون اور دیگر کمپنیاں

توقع ہے کہ شیورون اور دیگر امریکی توانائی کمپنیاں اگلے ہفتے وینزویلا کے تیل کے کھیتوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے معاہدے پر دستخط کریں گی۔ اس سرمایہ کاری سے وینزویلا کی پیداوار بڑھ سکتی ہے اور عالمی تیل کی منڈی مستحکم ہو سکتی ہے۔

یہ معاہدہ، اگرچہ متنازعہ ہے، امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، جو تصادم سے تعاون کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری کیا ردعمل دیتی ہے اور کیا وینزویلا کی اپوزیشن اس معاہدے کی شرائط کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگی۔

معاہدے کے اہم نکات

تفصیلمقدار
امریکہ کے کنٹرول میں ذخائر65 ارب بیرل
وینزویلا کے کل ذخائر303 ارب بیرل
وینزویلا کی موجودہ پیداوار1.25 ملین بیرل روزانہ
مذاکرات کارمارکو روبیو اور پیٹ ہیگ سیٹھ
شراکتنجی کمپنیاں
ٹیکس دہندگان پر بوجھکوئی نہیں
اگلا قدمشیورون اور دیگر کمپنیوں کا معاہدہ

ماخذ: دی گارڈین، 28 اگست 2026