ایران کے خلاف طویل مشنز پر مامور امریکی طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln کے عملے میں ذہنی صحت کا ایک تشویشناک بحران سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، عملے کے ارکان کی جانب سے خودکشی کی آٹھ کوششیں کی گئیں، جس نے امریکی حکومت اور سینیٹ کے درمیان ایک شدید سیاسی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔

بحری بیڑے میں نفسیاتی دباؤ کی لہر


امریکی بحریہ نے تصدیق کی ہے کہ USS Abraham Lincoln کے جنگی گروپ کے اندر حالات انتہائی نازک ہو چکے ہیں۔ بحریہ کے عبوری سیکرٹری Hung Cao کے ایک خط کے ذریعے یہ انکشاف ہوا ہے کہ تعیناتی کے دوران آٹھ ملاحوں نے اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی۔ ان واقعات میں مارچ میں جہاز سے کودنے کی ایک کوشش اور اگست میں سمندر میں چھلانگ لگانے کا ایک واقعہ شامل ہے، جس میں ملاح کو ریسکیو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بچایا گیا۔

پس منظر: طویل تعیناتی کی قیمت

یہ جہاز گزشتہ سال نومبر میں سان ڈیاگو سے روانہ ہوا تھا۔ اگرچہ اس کا مشن مئی میں ختم ہونا تھا، لیکن ایران کے خلاف آپریشنز میں شدت کی وجہ سے اسے بار بار بڑھایا گیا۔ اس کے نتیجے میں عملے کو بغیر کسی باقاعدہ بندرگاہ کے قیام کے 286 دن سمندر میں گزارنے پڑے، جس نے کارکنوں کے نفسیاتی استحکام کو شدید متاثر کیا ہوسکتا ہے۔

جہاز پر زندگی کے مشکل حالات

ذہنی دباؤ کے ساتھ ساتھ مادی سہولیات کی کمی نے بھی صورتحال کو بگاڑ دیا۔ رپورٹ کے مطابق، پانی کے زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے نمک نکالنے والے پلانٹس (Desalination units) خراب ہو گئے، صابن جیسی بنیادی ضروریات کی کمی ہو گئی اور شاورز میں پھپھوندی (mold) پیدا ہو گئی۔ بحریہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ "مقاومت کو بہتر بنانے" کے لیے کھانے پینے کی اقسام میں کمی کی گئی تھی۔

سینیٹ کا موقف

سینیٹر Kirsten Gillibrand نے اس صورتحال کو "ناقابل قبول" قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت فوجی صحت کو نظر انداز کر رہی ہے۔

حکومت کا جواب

وزیر دفاع Pete Hegseth اور صدر Donald Trump نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں "fake news" (جعلی خبریں) قرار دیا ہے۔

اگرچہ جہاز پر پیشہ ورانہ مدد کے لیے پانچ پادری (chaplains)، ایک ماہر نفسیات اور رویے کی صحت کے ماہر موجود تھے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ تنہائی اور طویل تعیناتی کے دباؤ نے ان تمام سہولیات کو ناکافی بنا دیا تھا۔

عالمی تناظر اور مستقبل

یہ اسکینڈل بحری تعیناتی کی زیادہ سے زیادہ مدت کی حدود میں اصلاحات لانے پر مجبور کر سکتا ہے تاکہ اندرونی انسانی بحرانوں سے بچا جا سکے۔ یہ ممکن ہے کہ کانگریس کا وفد جہاز کی واپسی پر تفصیلی تحقیقات کرے اور شاید عملے کی اس مایوسی سے Thái پاسیفک میں بحری بیڑے کی آپریشنل صلاحیت متاثر ہوئی ہو، جس کی وجہ سے ایران کے خلاف دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی لانی پڑے۔

ماخذ: The New York Times