ڈیاگو ماراڈونا کی موت کے مقدمے کے دوسرے مرحلے میں ایک حیران کن انکشاف ہوا ہے۔ عدالت میں پیش کی جانے والی میڈیکل رپورٹس میں سے کچھ ڈیاگو کی نہیں بلکہ ان کے والد ڈان ڈیاگو کی تھیں۔ اس غلطی سے پراسیکیوشن کے اہم ترین ثبوت کی ساکھ خطرے میں پڑ گئی ہے اور کیس کا پورا دارومدار اس نئے اسکینڈل پر ٹک گیا ہے۔

کیس کا پس منظر: ماراڈونا کی موت کا مقدمہ

ارجنٹائن کے عظیم فٹبالر ڈیاگو آرمانڈو ماراڈونا کا انتقال 25 نومبر 2020 کو ہوا تھا۔ ان کی موت کے بعد سے ہی یہ مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے جس میں 7 طبی عملے کے ارکان پر سادہ قتل (homicidio simple con dolo eventual) کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس میں ماراڈونا کے ذاتی معالج لیوپولڈو لوکے، ماہر نفسیات کارلوس ڈیاز، نفسیاتی ماہر اگسٹینا کوساچوف، طبی ڈاکٹر پیڈرو ڈی اسپاگنا، نرس ریکارڈو المیرون اور ڈاہیانا میڈرڈ، نیز سوئس میڈیکل انشورنس کمپنی کی کوآرڈینیٹر نینسی فورلینی شامل ہیں۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

یہ مقدمہ ماراڈونا کی موت کے بعد طبی عملے کی غفلت اور لاپرواہی کی تحقیقات سے جڑا ہے۔ پراسیکیوشن کا دعویٰ ہے کہ اگر طبی عملے نے صحیح طریقے سے کام کیا ہوتا تو ماراڈونا کی موت روکی جا سکتی تھی۔

نئے اسکینڈل کی تفصیلات

اتوار 19 اگست 2026 کو عدالت میں میڈیکل بورڈ کے ایک ماہر کی گواہی کے دوران حیران کن انکشاف ہوا۔ دفاعی وکیل نکولس ڈی البورا، جو نینسی فورلینی کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے محسوس کیا کہ ماہرِ گردہ ہرنان ٹریمارچی جو رپورٹس پیش کر رہے ہیں، ان میں سے کچھ ماراڈونا کی نہیں بلکہ ان کے والد ڈان ڈیاگو ماراڈونا کی تھیں۔

ڈان ڈیاگو کا انتقال 2015 میں ہوا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، ڈان ڈیاگو مئی 2015 میں سوئس میڈیکل ہسپتال میں زیرِ علاج تھے جبکہ ڈیاگو ماراڈونا اس وقت دبئی میں مقیم تھے۔

اہم غلطی: زیرِ بحث میڈیکل رپورٹس 2012 سے 2015 کے درمیان کی ہیں، لیکن وہ رپورٹس جو جون 2015 کی ہیں، وہ دراصل ڈان ڈیاگو کے ہسپتال میں داخلے کے دورانیے کی ہیں۔ ان رپورٹس پر مریض کا ممبرشپ نمبر بھی مختلف تھا جو ڈان ڈیاگو کا تھا۔

دفاع کا ردعمل

لیوپولڈو لوکے کے وکیل فرانسسکو اونیٹو نے اس واقعے کو “اسکینڈل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابلِ یقین ہے کہ ماہرین نے اتنی بڑی غلطی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس غلطی کی تحقیقات کے لیے سوئس میڈیکل سے ریکارڈ طلب کیا جائے اور امیگریشن سے تصدیق کی جائے کہ ڈیاگو اس وقت ارجنٹائن میں نہیں تھے۔

وکیل ڈیاگو اولمیڈو، جو ماہر نفسیات کارلوس ڈیاز کی نمائندگی کرتے ہیں، نے کہا کہ یہ واقعہ میڈیکل بورڈ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور اس کی رپورٹ پر اعتماد ختم ہو گیا ہے۔

کیا پوری میڈیکل رپورٹ کالعدم ہو سکتی ہے؟

میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پراسیکیوشن کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس میں کہا گیا ہے کہ ماراڈونا کی موت روکی جا سکتی تھی۔ اب اگر یہ ثابت ہو جائے کہ رپورٹس غلط ہیں تو پوری میڈیکل رپورٹ کو کالعدم کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، عدالت میں زیرِ غور ہے کہ آیا اس غلطی کی بنیاد پر پوری میڈیکل بورڈ رپورٹ کو رد کر دیا جائے۔ تاہم، کچھ وکلاء کا کہنا ہے کہ ایک غلطی کی وجہ سے پوری رپورٹ کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ماضی کا ایک اور اسکینڈل

یہ ماراڈونا کیس میں دوسرا بڑا اسکینڈل ہے۔ اس سے قبل 2025 میں پہلا مقدمہ اس وقت ختم کر دیا گیا تھا جب پتہ چلا کہ سابق جج جولیٹا ماکینٹاچ خفیہ طور پر ایک دستاویزی فلم بنا رہی تھیں۔ اب چار ماہ قبل شروع ہونے والے اس نئے مقدمے کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

اگلی سماعت

عدالت نے دفاع کی درخواست پر غور کرتے ہوئے نئے ثبوت طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعرات کو میڈیکل بورڈ کے دو اور ماہرین پیش ہوں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ غلطی کیسے ہوئی۔

یہ مقدمہ نہ صرف ماراڈونا کے مداحوں کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے دلچسپی کا باعث ہے، کیونکہ ماراڈونا کو اب تک کا سب سے بڑا فٹبالر مانا جاتا ہے۔ ان کی موت کے بعد سے ہی یہ کیس عدالتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، وکلاء کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ سوئس میڈیکل سے مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ رپورٹس میں یہ غلطی کیسے شامل ہوئی۔