ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی نے امریکہ کے کاروباری رہنماؤں سے خطاب میں اسقاط حمل کے قانون اور کم شرح پیدائش پر گرما گرم ریمارکس دیے۔ انہوں نے ملک کی اقتصادی کامیابیوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی اور ناقدین کو بیوقوف قرار دیا۔ پڑھیں اہم واقعات اور اعداد و شمار پر مشتمل رپورٹ۔

ایک نظر: میلے کا امریکٹ و کمیٹی کے اجلاس میں برقیم

گزشتہ جمعرات 20 اگست کو ارجنٹائن کے صدر خاویر میلے نے بیونس آئرس کے تاریخی الویرا پیلس ہوٹل میں کونسل آف دی امریکز کے اجلاس سے خطاب کیا۔ تقریباً 58 منٹ پر محیط اس تقریر میں انہوں نے اپنی معاشی پالیسیوں کے بارے میں تفصیل بتائی، اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور اسکے ساتھ ساتھ اسحب حمل کے دور کو بھی پرزور طریقے سے تناز کے بعد۔

“ہم سبز رومال کی جنگی سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں”، میلے نے اس دوران وضاحت کی، جس سے ان کی مراد ارجنٹائن میں اسحب حمل کے دور کی حمایت میں اٹھے ہوئے علامتی موومنٹ تھی۔ یہ قانون دسمبر 2020ء میں لے نمبر 27.610 (مدافعتی حمل کا خود مختار فیصلہ) کے ن سے منظور ہوا تھا۔

صدر میلے نے قانونی اسحب حمل اور شرح پیدا کیے جانے والے بچوں میں کمی کو ایک سلسلہ میں رکھا، حالانکہ ماہرین اس سے متفق نہیں۔ اعداد سے ظاہر ہے کہ ارجنٹائن میں پیدا یش کی شرح 2014ء سے مسلسل زوال پر ہے، اور اس کے اسباب کئی پیچیدہ معاشی اور سماجی عوامل ہیں۔

کیا اعداد و شمار، میلے کے دعوے کا ثبوت دیتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق، ایسا کوئی مخصوص ثبوت نہیں کہ اسحب حمل قوانین کی وجہ سے شرط اس قدر کم ہوئی ہے۔ عالمی بنک کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پوری دنیا میں یہ شرح پچھلے عشرے سے کم جا رہی ہے۔ فنڈار (ایک ریسرچ تنظیم) کی صنفی شعبہ کی سربراہ ماریا ڈی لاس نیئیسس پگلیا نے تشریح کی کہ اس کمی کے پیچھے عورتوں کا ملازمتوں میں بڑھتا ہوا کردار، پیدائشی کنٹرول کے موثر ذرائع، معاشی بے یقینی اور خاندانی منصوبہ بندی کی نئی ترجیحات ہیں۔

صدر کا تنقید سوال بھی؛ 'لوگ مہینہ ختم نہیں کر پاتے'

صدر میلے نے اس شکایت کو بھی مخصوص 'بیوقوفی' قرار دیا کہ لوگ معاشی طور پر تنگ ہیں۔ انہوں نے عظیم مصنف جرج لوئی بورجیس کا ذکر کرتے ہوئے کہہ، ”اگر یہ سچ ہوتا کہ ٹیکنالوجی روزگار ختم کر دیتی ہے تو بے روزگاری کی شرح 90% ہونی چاہیے“۔ اپنی حکومت کی اقتصادیات کی تعداد سے بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کی شرح 7.8% ہے اور معیشت کو کھولواجائے۔ انہوں نے ملک کی معیشت کو ‘جیل’ جیسی تنگ قرار دیا اور تجارت کو بہتر انضمام کی حمایت کی۔

حکوم نے کاموامی کا اعداداتی جدول

حکومتمہنگی موصولمہنگی دیا
کرسٹینا کرشنر8.5%26.9%
موریسیو میکری26.9%53.8%
البیرٹو فرنڈوز53.8%211%

میلے کے مطابق، انہوں نے صرف اپنے پہلے ادوار میں تھوک افلاع کی شرح کو 54% (دسمبر 2023ء) سے 0.8% (جولائی 2026ء) تک محدود کیا۔ انہوں نے یہاں یہ بھی کہا کہ ملک 2024 میں 6% اور 2025 میں 4% پر گیا تھا، اور 14 لاکھ سے زائد افراد کو غریبی سے نکالا گیا۔ “تصویر اب بھی خراب ہے، لیکن فلم ارجنٹائن کی بہترین تاریخ ہے“۔

میدیا اور سٹرزنگر کے لیے حمایت

خطاب میں میلے نے صحافیوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے دیبورا پلاجیر کا ذکر کیا، جو اس سے قبل انہیں ‘قاتل کا ساتھی’ کہا تھا، کیونکہ انہوں نے اسحب قانون کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا: “جب آپ کو کوئی انسان فیڈریکو سٹرزنگر پر تنقید کرتادیکھے، تو سمجھ لیں کہ وہ کسی فائدے والے کاروبار میں خلل ڈال رہا ہے” (صدر اور ان کے وزیر نے کام کیا)۔

یاد رہے کہ ارجنٹین میں اسحب قانون دوسری بار دسمبر 2020ء میں منظور ہوا، جب کہ 2018ء کے بل کو پارلیمنٹ نے مسترد کر دیا تھا۔ 'سبز روم' اس تحریک کی بھی علامت ہے، جو عام طور پر تھیل/رومال کی شکل میں لوگ لے جاتے ہیں۔ یہ موضوع آج بھی معاشرتی اور سیاسی تقسیم میں سے ہے۔

اضافی فہم کے لیے ذرائع: لا ناسیوں، اینفو بی، اجنٹی 24 اور لا ووز۔