یورپی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی لاتے ہوئے، اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے 29 نومبر کو عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ رہائشی قوانین کی پارلیمانی عدم منظوری کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے موجودہ حکومتی اتحاد کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے اور اپوزیشن کو مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔

اسپین کی سیاست میں نیا موڑ

اسپین کے سرکاری residense، Palacio de la Moncloa، میں ایک انتہائی اہم پریس کانفرنس ہوئی جہاں وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے تصدیق کی کہ عام انتخابات کے لیے سب سے زیادہ ممکنہ تاریخ 29 نومبر ہے۔

پس منظر: یہ اچانک فیصلہ گزشتہ جمعہ کو اس وقت سامنے آیا جب اسپین کی پارلیمنٹ (Congreso de los Diputados) نے رہائش گاہوں سے متعلق دو انتہائی اہم حکومتی قوانین کو مسترد کر دیا۔

حکومت کی کامیابیوں کا دعویٰ

اپنی تقریر کے دوران، وزیراعظم نے گزشتہ تین سالوں کے اپنے دورِ حکومت کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی، جن میں درج ذیل نکات شامل تھے:

معاشی ترقی اسپین کی معیشت میں مسلسل اضافہ
روزگار نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا
سماجی بہبود تعلیمی وظائف اور والدین کی چھٹیوں میں اضافہ

اس اعلان کے فوراً بعد حکومت میں ہلچل مچ گئی۔ صحت کی وزیر مونیکا گارسیا اور بچپن کی بہبود کی وزیر سرا ریگو نے اپنی تمام سرگرمیاں منسوخ کر دیں۔ یہاں تک کہ وزیراعظم سانچیز نے بھی خاندانی کاروبار کی قومی کانگریس میں شرکت سے گریز کیا تاکہ اپوزیشن لیڈر البرتو نونیز فیجو سے براہ راست آمنے سامنے ہونے سے بچ سکیں۔

سیاسی منظرنامہ: سروے کے نتائج

SocioMétrica کے ایک فوری سروے کے مطابق، موجودہ حکومت کے لیے صورتحال کافی مشکل نظر آ رہی ہے:

سیاسی پارٹی متوقع نشستیں
Partido Popular (PP) 143
PSOE (حکومتی پارٹی) 106
Vox 62
Sumar 6

ماخذ: IMAGO