ارجنٹائن میں ڈینگی کے خلاف سائنسی پیش رفت
14 اگست 2026 کو معلوم ہوا کہ آرجنٹائن کی سب سے بڑی سائنسی تحقیقی کونسل CONICET (ارجنٹائن کی قومی سائنسی اور تکنیکی تحقیقاتی کونسل) کے سائنسدان روزاریو شہر میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف مالیکیولر اینڈ سیلولر بایولوجی (IBR) میں ڈینگی کی جلد تشخیص کے لیے ایک نئے اور سستے ٹیسٹ کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس پروجیکٹ کی قیادت محققہ ایلیسا بولاتی کر رہی ہیں اور اسے فاؤنڈیشن ولیمز کی مالی مدد حاصل ہے۔
بولاتی نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ اگرچہ PCR جیسے حساس طریقے موجود ہیں، لیکن انہیں خاص بنیادی ڈھانچے اور تربیت یافتہ عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارا ہدف ایک ایسا تیز، جدید اور سستا ٹیسٹ ہے جو ہسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈز اور بنیادی ہیلتھ سینٹرز میں استعمال کیا جا سکے۔
ابتدائی تشخیص: پروٹین NS1 کی اہمیت
اس نئی تکنیک کا انحصار پروٹین NS1 کی نشاندہی پر ہے جو انفیکشن کے پہلے دنوں میں خون میں بڑی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ یہ پروٹین ڈینگی کے چاروں سیروٹائپس میں یکساں پائی جاتی ہے، جس سے اسے وائرس کی موجودگی کی شناخت کے لیے بہترین نشان بنایا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ سے مریضوں کا علاج بہتر ہوگا اور وباؤں کے دوران نگرانی آسان ہوگی۔
ایپٹامرز: بائیو ٹیکنالوجی میں انقلابی تبدیلی
اس پروجیکٹ کی سب سے بڑی جدت ایپٹامرز کا استعمال ہے۔ یہ لیبارٹری میں بنائے گئے کیمیائی مادے ہیں جو مخصوص اہداف سے بہت درستگی سے جڑتے ہیں۔ روایتی اینٹی باڈیز کے برعکس، ایپٹامرز کو بنانے کے لیے جانوروں یا حیاتیاتی نظاموں کی ضرورت نہیں، جس سے ان کی تیاری سستی، آسان اور زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔
پروجیکٹ کا موجودہ مرحلہ اور مستقبل کے منصوبے
فی الحال اس پروجیکٹ میں بہتری کے کام جاری ہیں۔ اگلے مراحل میں ڈینگی کے چاروں سیروٹائپس کی پروٹین NS1 کی تیاری اور مخصوص ایپٹامرز کا انتخاب شامل ہے۔ اس ٹیم نے پہلے ہی ایچ پی وی (HPV) اور کورونا وائرس (SARS-CoV-2) کی تشخیص کے لیے کامیاب ٹولز تیار کیے ہیں، جو اس پروجیکٹ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
اس پروجیکٹ میں CONICET، روساریو نیشنل یونیورسٹی، IBR اور ایک مقامی ٹیک کمپنی DETx MOL S.A. شریک ہیں۔ ڈینگی آرجنٹائن اور اس خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور مقامی سطح پر تیار کردہ اور سستی تشخیصی ٹولز کا ہونا صحت عامہ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
حوالہ اور مزید معلومات کے لیے: imago.com.ar