21/07/2026 04:10 - Internacionales
20 جولائی 2026 کو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے آنے والی بیشتر مصنوعات پر 50 فیصد محصولات (درآمدی ٹیکس) عائد کرنے کا اعلان کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، یہ اقدام 1930 کے تجارتی قانون کی دفعہ 338 کے تحت لیا گیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کینیڈا نے امریکی گاڑیوں، شراب اور ڈیری مصنوعات کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا ہے۔ (یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ 'محصولات' یا ٹیرف کا مطلب درآمد شدہ سامان پر لگایا جانے والا ٹیکس ہے جو مقامی صنعت کو تحفظ دیتا ہے)۔
ان نئے 50% محصولات کا اطلاق تمام اشیاء پر نہیں ہوگا۔ توانائی کی مصنوعات، پوٹاش (ایک کیمیکل جو کھاد میں استعمال ہوتا ہے)، مچھلی اور اہم معدنیات کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدام بنیادی طور پر ان اشیاء پر اثر انداز ہوگا جو پہلے امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے (T-MEC) کے تحت ٹیکس سے پاک تھیں۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکہ پر تجارتی معاہدے (کینیڈا میں CUSMA کہلاتا ہے) کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، لیکن مستقبل کے حوالے سے مصالحت آمیز رویہ برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا نے اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے تفصیلی تجاویز پیش کی ہیں اور وہ آنے والے ہفتوں میں مذاکرات کو تیز کرنے کے لیے تیار ہیں، جیسا کہ Infobae نے اطلاع دی ہے۔
T-MEC، جو 2020 میں دستخط ہوا تھا اور حال ہی میں ختم ہو گیا ہے، ایک آزاد تجارتی معاہدہ ہے جس کی نئی نشست ممکنہ طور پر 2036 تک جاری رہ سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے آزاد تجارت کے فوائد کا دفاع کیا اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی حکومت کی آمادگی کا اعادہ کیا۔ وائٹ ہاؤس نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی ڈیری مصنوعات پر پابندیاں اور ڈیجیٹل خدمات پر ٹیکس کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ، کینیڈا کے جنگلات کی آگ کے دھوئیں کا امریکی ہوا کے معیار پر اثر بھی ایک وجہ بتائی گئی۔ ذرائع جیسے Cadena 3 نے اشارہ کیا کہ اگرچہ یہ اقدام معاشی چیلنجز لائے گا، لیکن یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک جدید اور بہتر تجارتی تعلقات کے دروازے کھول سکتا ہے۔
Alfredo S. Quiroga