15/07/2026 16:28 - Economia
15 جولائی 2026 کو، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے عالمی تیل کے بازار کے حالات کے حوالے سے ایک اہم تنبیہ جاری کی۔ ذرائع کے مطابق، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد بھی تیل کی فراہمی کو معمول پر لانے میں تین ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز وہ تنگ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے 25 فیصد سمندری تیل کی تجارت گزرتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی اہمیت ناقابلِ بیان ہے۔
آئی ایم ایف نے تین اہم عوامل کی نشاندہی کی ہے جو اس وقت تیل کی قیمتوں میں اچھال کو روک رہے تھے، لیکن انذار دیا گیا ہے کہ یہ وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ اگر تنازعہ طول پکڑتا ہے تو حکمت عملی کے ذخائر اور دیگر ممالک میں پیداواری لچک کافی نہیں ہوگی، تاہم امید ہے کہ بین الاقوامی برادری کی سفارتی کوششیں صورتحال کو سنبھال لیں گی اور معاشی استحکام واپس آئے گا۔
آئی ایم ایف کی تنبیہ اس وقت آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں شدید تناؤ کا دور دورہ ہے۔ ذرائع کے مطابق، امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف پر حملوں کی تیسری رات مسلسل کارروائی کی ہے تاکہ تہران کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔ جواباً، ایران نے اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے پر 20 فیصد ٹول لگایا ہے۔ 17 جون 2026 کو ہونے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد قطر، پاکستان اور عمان جیسے ثالثوں کے ذریعے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جو امن کی امید کی کرن ہیں۔
بازاروں پر براہ راست اثر مرتب ہوا ہے: برینٹ تیل کی قیمت 2.5 فیصد بڑھ کر 85.37 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، یمن میں حوثی ملیشیا کی آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی ہے، جس سے ماہرین کے مطابق تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے اماءگو ڈاٹ کام ملاحظہ کریں۔
Alfredo S. Quiroga