برطانیہ کے 130 سے زائد ممتاز قانون دانوں اور ماہرین نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف پابندیوں کو مزید سخت کیا جائے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ اقدامات غیر قانونی قبضے کے مقابلے میں ناکافی ہیں، اور انہوں نے ہتھیاروں کی مکمل embargo اور سخت معاشی پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہو سکے۔

امن اور انصاف کے لیے ایک قانونی محاذ

برطانیہ کی قانونی برادری ایک بے مثال اقدام کے ذریعے برطانوی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں زیادہ سخت موقف اپنایا جا سکے۔

اس مطالبے کے پیچھے کون ہے؟

یہ پہل ایک خط کے ذریعے کی گئی ہے جس پر 130 سے زیادہ قانونی ماہرین کے دستخط ہیں، جن میں 18 کنگز کونسل (King's Counsel) شامل ہیں۔ (کنگز کونسل برطانیہ کے وہ اعلیٰ ترین اور معتبر ترین وکلاء ہوتے ہیں جنہیں پیچیدہ کیسز کے لیے حکومت کی طرف سے منتخب کیا جاتا ہے)۔ The Guardian کی رپورٹ کے مطابق، اس کا مقصد حکومت کو بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کے اس فیصلے پر عمل کرنے پر مجبور کرنا ہے جس میں اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔

مطالبے کی بنیادی وجہ

ماہرین کا استدلال ہے کہ موجودہ پابندیاں بہت محدود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روس پر عائد پابندیوں کے مقابلے میں، جو عالمی معاشی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہیں، اسرائیل کے خلاف اقدامات صرف مقبوضہ علاقوں میں براہ راست معاشی سرگرمیوں تک محدود ہیں، جو کہ ایک بڑی ناانصافی ہے۔

قانون دانوں کے مخصوص مطالبات

تجویز کردہ اقدامقانونی جواز / مقصد
ہتھیاروں کی مکمل embargoہتھیاروں کی تجارت کے معاہدے کے تحت، اگر نسل کشی کا علم ہو تو ہتھیاروں کی منتقلی ممنوع ہونی چاہیے۔
مالی پابندیاںپابندیوں کا دائرہ انشورنس، اکاؤنٹنگ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی خدمات تک بڑھایا جائے۔
سرمایہ کاری میں شفافیتاس بات کی تصدیق کی جائے کہ کوئی بھی برطانوی پنشن پلان یا سرکاری فنڈ غیر قانونی بستیوں میں سرمایہ کاری نہیں کر رہا۔
قبضے کا خاتمہصرف انفرادی بستیوں کے بجائے مکمل قبضے کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔
سیاسی پس منظر اور سفارتی تناؤ

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ (Ed Miliband) نے پہلے ہی فلسطین کی غیر قانونی بستیوں سے آنے والی اشیاء کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا تھا، جسے انہوں نے 'دو ریاستوں کے حل' (Two-State Solution) کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا تھا۔ تاہم، اسرائیل کا ردعمل سخت رہا؛ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈون ساار (Gideon Sa’ar) نے ان بیانات کو 'ہولناک جھوٹ' قرار دیتے ہوئے برطانیہ پر الزام لگایا کہ وہ منظم طریقے سے اسرائیل کے خلاف کام کر رہا ہے۔

اس صورتحال کی سنگینی اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ اسرائیل نے E1 بستی میں 1,200 گھروں کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ منصوبہ مغربی کنارے (West Bank) کو جسمانی طور پر تقسیم کر سکتا ہے، جس سے مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناممکن ہو سکتا ہے۔

متعلقہ