انصاف کی جیت: صدیوں کی قید کی سزا
جنوبی ایشیا کی عدالتی تاریخ کے ایک اہم فیصلے میں، سری لنکا کی اعلیٰ عدالت نے 2019 کے ایسٹر سنڈے کے مربوط حملوں میں ملوث 15 افراد کو سزا سنائی ہے۔ ان مجرموں کو 200 سے 260 سال تک کی جیل کی سزا دی گئی ہے، جس میں دہشت گردی، سازش اور قتل کے الزامات شامل ہیں۔ ان میں محمد نوفیر مولوی (Mohamed Naufer Moulavi) بھی شامل ہے جسے اس ہولناک قتل عام کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ہے۔
پس منظر: اپریل 2019 کا المیہ
یہ حملے خودکش دھماکوں کی ایک سیریز تھے جنہوں نے ملک کے مختلف شہروں میں تین گرجاؤں اور تین لگژری ہوٹلوں کو نشانہ بنایا۔ اس سانحے میں 267 سے 279 افراد جاں بحق ہوئے اور تقریباً 6,000 زخمی ہوئے۔
اس حملے کی گونج پوری دنیا میں سنی گئی کیونکہ 45 غیر ملکی شہری بھی اس کا شکار ہوئے، جن میں بھارت، برطانیہ، امریکہ اور اسپین کے شہری شامل تھے۔ یہ حملہ مقامی دہشت گرد خلیوں نے کیا تھا جن کا تعلق داعش (IS) سے بتایا جاتا ہے۔
اصطلاحات کی وضاحت
| راجاپکسا خاندان: | سری لنکا کی سیاست کا ایک طاقتور خاندان جس نے دہائیوں تک ملک پر اثر و رسوخ رکھا۔ |
| انٹیلیجنس: | خفیہ معلومات جمع کرنے والا سرکاری نظام جو حملوں کو روکنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ |
ریاستی غفلت اور سیاسی سائے
عدالتی کارروائی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ سری لنکا کی ریاست نے بھارت کی جانب سے دی گئی اہم انٹیلیجنس وارننگز کو نظر انداز کیا۔ اس سنگین غفلت کی وجہ سے جولائی 2026 میں دفاعی وزارت کے سابق حکام اور پولیس افسران کو مجرمانہ غفلت کی بنیاد پر موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
سیاسی طور پر، سابق صدر میتھری پالا سری سینا (Maithripala Sirisena) کو سپریم کورٹ نے سیکیورٹی ناکامیوں کی وجہ سے بھاری جرمانہ ادا کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن نظریہ یہ ہے کہ کیا ان حملوں کو جان بوجھ کر ہونے دیا گیا تاکہ ملک میں افراتفری پھیلے اور گوتبایا راجاپکسا (Gotabaya Rajapaksa) دہشت گردی کے خلاف سخت گیر پالیسی کے نام پر صدر بن سکیں؟
سابق انٹیلیجنس چیف سوریش سالے (Suresh Sallay) کی گرفتاری اس کیس کا اہم موڑ ہے۔ تفتیش جاری ہے کہ کیا ریاستی اداروں نے سیاسی مفاد کے لیے انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر عوام کی رائے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی۔
عالمی تناظر اور امید
یہ فیصلہ عالمی سطح پر ایک مثال بن سکتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لاپرواہی کی صورت میں سربراہانِ ریاست کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ریاستی ملی بھگت کے انکشافات سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، لیکن یہ امید بھی ہے کہ اس عدالتی سلسلے کے اختتام سے سری لنکا میں انٹیلیجنس اداروں میں زیادہ شفافیت آئے گی اور متاثرین کو انصاف ملے گا۔