30/06/2026 22:07 - Economia
جنوبی امریکا کے ملک ارجنٹائن میں امریکی ڈالر نے 30 جون 2026 کو 1,500 پیسو کی نفسیاتی حد کو عبور کر لیا۔ یہ سطح اکتوبر 2025 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ ارجنٹائن کے بینکو ناسیونال (قومی بینک) کے مطابق سرکاری ڈالر کی قیمت 1,495-1,500 پیسو کے درمیان تھی۔
واضح رہے کہ: ارجنٹائن کی کرنسی 'پیسو' ہے جو过去ہ کئی دہائیوں سے افراط زر کا شکار رہی ہے۔ ملک میں کئی قسم کے ڈالر کی قیمتیں ہیں - سرکاری، سیاہ بازار (بلیو)، اور ہول سیل (منصفانہ)۔
| سرکاری ڈالر (فروخت) | 1,495-1,500 پیسو |
| ہول سیل ڈالر | 1,481.50 پیسو |
| بلیو ڈالر (سیاہ بازار) | 1,510-1,515 پیسو |
| جون میں اضافہ | تقریباً 5% |
| بی سی آر اے کے ذخائر | 47.08 ارب ڈالر |
| جولائی کی پیشگوئی | 1,504 پیسو |
| دسمبر کی پیشگوئی | 1,653 پیسو |
| 2026 کی متوقع مہنگائی | 29% |
| 2027 کی متوقع مہنگائی | 20% |
| ملکی خطرہ | 426 نکات (2018 سے کم) |
بینکو سینترال دی لا ریپوبلیکا ارجنٹینا (BCRA) ارجنٹائن کا مرکزی بینک ہے جو ملک کی مالیاتی پالیسی اور کرنسی کا انتظام کرتا ہے۔ اس نے 2026 میں 11 ارب ڈالر سے زیادہ خریدے ہیں، جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ معاہدے کی شرائط پوری کر رہا ہے۔
بینک کے بین الاقوامی ذخائر تقریباً 47 ارب ڈالر ہیں، جو ملک کے بیرونی مالیاتی ذمہ داریوں کے لیے ایک اچھا ذخیرہ ہے۔
ملکی خطرہ (Riesgo País) کا اشاریہ جون میں 14 فیصد گر کر 426 نکات پر آ گیا - یہ 2018 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ یہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا ارجنٹائن کے حکومتی بونڈز پر بھروسہ ظاہر کرتا ہے۔
اس سٹی کی چند وجوہات ہیں:
ایک خوشخبری: ارجنٹائن نے جنوری سے مئی 2026 تک 11.78 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل کیا، جو ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔ نیوکین صوبے نے واکا مویرٹا کے تیل کے ذخائر سے پہلے نصف سال میں 3.45 ارب ڈالر کی برآمدات کیں - 2025 کے مقابلے میں 104 فیصد اضافہ۔
واکا مویرٹا دنیا کے دوسرے بڑے شییل گیس کے ذخائر میں سے ایک ہے، جو ارجنٹائن کے جنوب میں واقع ہے۔
فیوچرز معاہدوں کے مطابق ڈالر جولائی میں 1,504 پیسو اور دسمبر 2026 میں 1,653 پیسو تک جا سکتا ہے۔ بی بی وی اے ریسرچ کے مطابق مہنگائی 2026 میں 29 فیصد اور 2027 میں 20 فیصد رہے گی - بتدریج کمی کا رجحان۔
9 جولائی 2026 کو ارجنٹائن کو نجی کریڈیٹرز کو 4.3 ارب ڈالر کی ادائیگی کرنی ہوگی، جو ایک اہم تاریخی واقعہ ہے۔
نتیجہ: ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی کرنسی بحران نہیں بلکہ سیزنل ایڈجسٹمنٹ ہے جو بینڈ سسٹم کے اندر ہے۔
Alfredo S. Quiroga