جنوب مغربی ایشیا میں طاقت کا توازن ایک نازک موڑ پر ہے۔ تہران کی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی بڑے پیمانے پر پیش قدمی نہ صرف یمن کے استحکام کے لیے خطرہ ہے، بلکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل اور امریکہ و اس کے اتحادیوں کے دفاعی معاہدوں کی ساکھ کو بھی داؤ پر لگا چکی ہے۔
جیو پولیٹیکل پس منظر (Background)
یمن کی جنگ تاریخی طور پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک "پروکسی وار" (Proxy War) رہی ہے، یعنی ایسی جنگ جہاں دو بڑی طاقتیں براہ راست لڑنے کے بجائے مقامی گروپوں کو استعمال کرتی ہیں۔ 'عرب بہار' کے بعد سے، حوثیوں نے شمالی یمن میں اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ متضاد رہا ہے؛ ایک طرف وہ بڑے پیمانے پر اسلحہ فروخت کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ کسی مہنگی زمینی جنگ میں پڑنے سے گریز کرتے ہیں۔ ایران حوثیوں کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ عالمی تجارتی راستوں پر دباؤ ڈال کر مغربی پابندیوں کے خلاف اپنے مذاکرات کی پوزیشن مضبوط کر سکے۔
اسٹریٹجک کنٹرول اور انسانی المیہ
حالیہ حملوں میں حوثیوں نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے: اب ان کا کنٹرول باب المندب کے مقام پر ہے، جو عالمی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ (Strait) ہے۔ ان کا اصل ہدف مأرب (Marib) کا تیل پیدا کرنے والا صوبہ اور تائز شہر ہے، جس کے ذریعے وہ نہ صرف یمنی حکومت کا گلا گھونٹ سکتے ہیں بلکہ بحیرہ احمر کے ذریعے خام تیل کی برآمدات کو بھی کنٹرول کر سکتے ہیں۔
یہ تشدد اب سعودی سرزمین تک پھیل چکا ہے، جہاں ریاض پر بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے ہیں اور ریفائنریوں پر ڈرونز کے ذریعے منظم حملے کیے گئے ہیں۔ اس عدم استحکام کے نتیجے میں ستمبر کے آغاز سے اب تک 125,000 سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، جو اسے 21 ویں صدی کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک بناتا ہے۔
واشنگٹن کا تضاد اور سفارتی تناؤ
سفارتی تناؤ کا مرکز وائٹ ہاؤس ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (MBS) نے باقاعدہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ حوثیوں کے ٹھکانوں پر براہ راست فضائی حملے کرے۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل غیر یقینی رہا ہے؛ رپورٹس کے مطابق صدر نے ایک بار بمباری کا حکم دیا لیکن آخری لمحے میں اسے منسوخ کر دیا۔
اس ہچکچاہٹ کی تین بڑی وجوہات ہیں: ایران کے ساتھ کھلی جنگ کی عوامی عدم مقبولیت، نومبر کے قانون ساز انتخابات کی قربت، اور امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی۔ اگرچہ واشنگٹن انٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے اور 24.3 بلین ڈالر کے F-35 طیاروں کی فروخت منظور کی ہے، لیکن فوجی عمل کی کمی ریاض کے اعتماد کو ٹہلاتی ہے۔
عالمی سطح پر، G7 نے ایران سے ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ برطانیہ نے اینڈی برنہم کی قیادت میں صرف محدود تکنیکی مدد فراہم کی ہے تاکہ براہ راست لڑائی سے بچا جا سکے۔